سنت نبویﷺ کو عام کریں

آ ؤ ایک کام کریں سنت نبویﷺ کو عام کریں۔
ہیلو نہیں:  السلام علیکم
او کے نہیں: ان شاء اللہ
بائے نہیں: فی امان اللہ
تھینک یو نہیں: جزاک اللہ
گریٹ نہیں: ماشاء اللہ
آئی ایم فائن نہیں: الحمد للہ
زبردست نہیں: سبحان اللہ
کہیں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

Inpage2.92

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) میں قانون شفاء


ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) میں قانون شفاء
دوسرا طریقہ علاج ہومیو پیتھی ہے۔ یہ حضرات بھی اپنے آپ کو سائینٹی فک اور جدید کہنے کے ساتھ ساتھ بے ضرر کہتے ہیں۔ اس میں سرے سے مرض کا تصور ہی نہیں ہے ۔ بس علامات کو ختم کرنے کے لئے دوا دی جاتی ہے جس کا تعلق نہ تو خون کے کیمیائی اجزاء کے ساتھ ہے۔ اور نہ ہی اعضاء کے افعال کے ساتھ ہے ان کی ادویہ اس قدر قلیل مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں کہ کسی چیز کے اضافے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ کسی علامت کو ختم کرنے سے خون کے کیمیائی اجزاء میں ہرگز کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

طب قدیم میں قانون شفاء


طب قدیم میں قانون شفاء
اسی طرح طب یونانی کے حامل اطباء احضرات کا خیال ہے کہ طب قدیم ہی اصل اور قدرتی طریقہ علاج ہے جس میں یقینی اور بے ضرر شفاء ہے۔
اس کی بنیاد اخلاط اور کیفیات پر رکھی گئی ہے جب تک ان میں اعتدال قائم ہے اس کا نام صحت ہے اور ان کے اعتدال کے بگڑ جانے کا نام مرض ہے پھر ہر خلط کا مزاج مقرر ہے پھر تمام اخلاط کا جسم انسان میں اعتدال اضافی مقرر کیا گیا ہے جس پر انسانی صحت قائم ہے امراض کے علاج کی صورت میں صحت کے اسی مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بیماری سے ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ یہی صحت کا فطری قانون ہے۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

ایلو پیتھی میں قانون شفاء


ایلو پیتھی میں قانون شفاء
اس وقت جس قدر بھی طریق ہائے علاج ہیں ان میں سب سے زیادہ ایلو پیتھی کا دور دورہ ہے کیونکہ یہ تمام دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ماڈرن یا جدید اور سائینٹی فک اور سسٹو میٹک اور بے ضرر ہے اس میں شفاء حاصل کرنے کے لئے علامات کو ختم کرنے یا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سبب مرض جراثیم کو مانا گیا ہے۔ اور شفاء حاصل کرنے کے لئے ان جراثیم کو فنا کرنا ضروری سمجھتے ہوئے جراثیم کش ادویات دی جاتی ہیں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

قانون شفاء


اس دنیا میں جس قدر بھی طریق ہائے علاج پائے جاتے ہیں۔ سب کا دعوی یہی ہے کہ ان کا طریقہ علاج باقی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ بعض تو یہاں تک دعوی کرتے ہیں کہ ان کے طریقہ علاج میں یقینی اور بے خطاء علاج کی خوبی پائی جاتی ہے۔لیکن سال ہا سال کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے  کہ شفاء منجانب اللہ ہے اور قوت شفاء و مرکز شفاء اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے اور اللہ کی مرضی و منشاء کے بغیر شفاء حاصل نہیں ہوسکتی اس لئے ہر حکیم اور عقل مند معالج مریض کو یہی کہتے ہیں کہ ان شاء اللہ شفا ہو جائے گی۔ یعنی اگر اللہ کی مرضی و منشاء شامل حال رہی تو شفاء ہوگی ورنہ نہیں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ