مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ
ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) میں قانون شفاء
ارسال کردہ:
Muhammad Arshad Kamboh
ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) میں قانون شفاء
دوسرا طریقہ علاج ہومیو پیتھی ہے۔ یہ حضرات بھی اپنے آپ کو سائینٹی فک اور جدید کہنے کے ساتھ ساتھ بے ضرر کہتے ہیں۔ اس میں سرے سے مرض کا تصور ہی نہیں ہے ۔ بس علامات کو ختم کرنے کے لئے دوا دی جاتی ہے جس کا تعلق نہ تو خون کے کیمیائی اجزاء کے ساتھ ہے۔ اور نہ ہی اعضاء کے افعال کے ساتھ ہے ان کی ادویہ اس قدر قلیل مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں کہ کسی چیز کے اضافے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ کسی علامت کو ختم کرنے سے خون کے کیمیائی اجزاء میں ہرگز کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔
طب قدیم میں قانون شفاء
ارسال کردہ:
Muhammad Arshad Kamboh
طب قدیم میں قانون شفاء
اسی طرح طب یونانی کے حامل اطباء احضرات کا خیال ہے کہ طب قدیم ہی اصل اور قدرتی طریقہ علاج ہے جس میں یقینی اور بے ضرر شفاء ہے۔
اس کی بنیاد اخلاط اور کیفیات پر رکھی گئی ہے جب تک ان میں اعتدال قائم ہے اس کا نام صحت ہے اور ان کے اعتدال کے بگڑ جانے کا نام مرض ہے پھر ہر خلط کا مزاج مقرر ہے پھر تمام اخلاط کا جسم انسان میں اعتدال اضافی مقرر کیا گیا ہے جس پر انسانی صحت قائم ہے امراض کے علاج کی صورت میں صحت کے اسی مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بیماری سے ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ یہی صحت کا فطری قانون ہے۔
ایلو پیتھی میں قانون شفاء
ارسال کردہ:
Muhammad Arshad Kamboh
ایلو پیتھی میں قانون شفاء
اس وقت جس قدر بھی طریق ہائے علاج ہیں ان میں سب سے زیادہ ایلو پیتھی کا دور دورہ ہے کیونکہ یہ تمام دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ماڈرن یا جدید اور سائینٹی فک اور سسٹو میٹک اور بے ضرر ہے اس میں شفاء حاصل کرنے کے لئے علامات کو ختم کرنے یا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سبب مرض جراثیم کو مانا گیا ہے۔ اور شفاء حاصل کرنے کے لئے ان جراثیم کو فنا کرنا ضروری سمجھتے ہوئے جراثیم کش ادویات دی جاتی ہیں۔
قانون شفاء
ارسال کردہ:
Muhammad Arshad Kamboh
اس دنیا میں جس قدر بھی طریق ہائے علاج پائے جاتے ہیں۔ سب کا دعوی یہی ہے کہ ان کا طریقہ علاج باقی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ بعض تو یہاں تک دعوی کرتے ہیں کہ ان کے طریقہ علاج میں یقینی اور بے خطاء علاج کی خوبی پائی جاتی ہے۔لیکن سال ہا سال کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ شفاء منجانب اللہ ہے اور قوت شفاء و مرکز شفاء اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے اور اللہ کی مرضی و منشاء کے بغیر شفاء حاصل نہیں ہوسکتی اس لئے ہر حکیم اور عقل مند معالج مریض کو یہی کہتے ہیں کہ ان شاء اللہ شفا ہو جائے گی۔ یعنی اگر اللہ کی مرضی و منشاء شامل حال رہی تو شفاء ہوگی ورنہ نہیں۔
عنوانات
حکمت,
دیسی حکمت,
طب نبویﷺ,
طبی اصطلاحات,
طبی لطیفے,
علاج بالغذا,
قانون شفاء,
قانون مفرد اعضاء
