دوران حیض درد کا مسئلہ

جہلم سے مس سدرہ میسج کرتی ہیں۔

السلام علیکم
سر مجھے اپنے ذاتی مسئلہ میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ میرے ساتھ دو پرابلم ہیں۔
کچھ ہفتوں سے جب میں پیشاب کرنے سے فارغ ہوتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک قطرہ رہ گیا ہے۔ جو کہ باوجود کوشش کے خارج نہیں ہوتا۔
دوران حیض مجھے بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔ حیض کے دنوں میں کیا خوراک استعمال کرنا چاہیے۔ اگر کبھی معمول سے کم بلیڈنگ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔ اور اس کی وجہ کیا ہے۔ اور درد کو کم کرنے کے لیے کونسی دوا استعمال کرنا چاہیے۔ مجھے گائیڈ کریں۔ مشکور ہوں گی۔


جواب۔۔۔
وعلیکم السلام
مس سدرہ۔ آپ کی کیفیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم میں معمول سے زیادہ گرمی اور خشکی ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ سب مسائل درپیش ہیں۔ آپ غذائی چارٹ میں سے نمبر 3 اور نمبر 4 کا بالکل پرہیز کریں۔ باقی سب غذائیں استعمال کریں۔ علاج کے لیے درج ذیل پوسٹ کا مطالعہ کریں۔
روزانہ رات کو سوتے وقت ایک گلاس دودھ میں چند دانے سفید زیرہ کے ابال کر پئیں۔ کم از کم 2ماہ غذائی علاج کریں۔
ضرورت محسوس ہو تو رابطہ کیجئے گا۔
والسلام علیکم۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

علاج برائے کمی حیض بوجہ کثرت حرارت


علاج با لغذا برائے کمی حیض بوجہ کثرت حرارت:
جب عورت کے خون میں حرارت پیدا ہوجاتی تو عضلات میں تحلیل شروع ہوجاتی ہے۔ اس وقت بھی حیض کم آتا ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ خون حیض شدید تکلیف سے تھوڑا تھوڑا آتا ہے۔
یہ دراصل رحم کی پیچش ہوتی ہے۔ اور اس کا علاج بھی وہی ہوتا ہے جو عموماً پیچش میں کیا جاتا ہے۔ اس سے رحم کی سوزش بھی ٹھیک ہوجاتی ہے۔
ایسی مریضہ کے لئے غذائی چارٹ میں سےنمبر 3 اور نمبر4 غذا سے بالکل پرہیز کرنا ہوگا۔ باقی چاروں قسم کی اغذیہ استعمال کرسکتے ہیں۔
اگر تکلیف زیادہ ہو تو ساتھ درج ذیل دوا بھی دے سکتے ہیں۔
ریوند خطائی، قلمی شورہ، جوکھار، زیرہ سفید ہر ایک 10 گرام
چینی 40گرام
پیس کر ملا لیں اور تین سے چھ ماشہ دن میں تین بار ہمراہ تازہ پانی۔

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

کمی حیض کی تشخیص اور علاج


کمی حیض کی تشخیص اور علاج
خون حیض کم آنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
1۔ جسم میں رطوبات کی کثرت                      

2۔ جسم میں حرارت کی کثرت
1۔ جسم میں رطوبات کی کثرت
قارئین! جب جسم میں رطوبات کی بہت زیادہ کثرت ہوجائے تو حیض بہت ہی کم آتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات نشان بھی نہیں لگتا۔ اورخاص بات یہ ہے کہ تکلیف بھی بالکل نہیں ہوتی۔
اس مرض میں جسم میں رطوبات کی زیادتی کی وجہ سے خون کی کمی ہوجاتی ہے۔ جس سے رحم کے عضلات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ لہذا عضلات رحم خون حیض بھی خارج نہیں کرسکتے۔  اگر عضلات رحم میں دوا غذا سے تھوڑی سی تحریک یعنی گرمی پیدا کردی جائے تو حیض صحیح آنے لگتا ہے اور مرض دور ہوجاتا ہے۔
علاج بالغذا برائے کمی حیض بوجہ کثرت رطوبات:
اس قسم کی مریضہ میں رطوبات کی زیادتی ہوگئی ہے۔ لہذا حیض کھولنے کے لئے رطوبات کم کرنے والی غذا دوا کھلانی پڑے گی۔ جنہیں قانون مفرد اعضاء میں عضلاتی اعصابی یا عضلاتی غدی اغذیہ کہتے ہیں۔
جونہی جسم میں رطوبات کی کمی ہوگی فوراً حیض جاری ہوجائے گا۔ اگر خون کی کمی ہوگی تو وہ بھی پوری ہوجائے گی۔
ایسی مریضہ کے لئے غذائی چارٹ میں سے نمبر 1 اور نمبر 6 قسم کی اغذیہ سے بالکل پرہیز کرنا ہوگا۔
نمبر 2 اور نمبر3 اغذیہ کثرت سے استعمال کرنی ہونگی اور نمبر 4اور 5 معمولی مقدار میں استعمال کرسکتے ہیں۔
اگر سردی کی وجہ سے اچانک حیض بند ہوگیا ہو تو گرم ریت کی ٹکور کریں۔ گرم گرم چائے اور گوشت کا شوربہ پلائیں۔
اگر دوا کی ضرورت ہو تو درج ذیل نسخہ استعمال کریں۔(یاد رہے کہ غذا کی پابندی کے بنا کوئی بھی دوا فائدہ نہ دے گی۔ )
مصبر 10 گرام                                                                     ہیرا کسیس 10 گرام                                                زعفران  5گرام
ترکیب تیاری: اول زعفران پیس لیں پھر ہیرا کسیس اور مصبر پیس کر ملا لیں پانی کی مدد سے چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔ یا درمیانے سائز کے کیپسول بھر لیں۔ 
حیض آنے کے دنوں سے ہفتہ قبل لونگ دارچینی کے قہوہ کے ساتھ دن میں تین بار استعمال کریں۔ اوپر دی گئی ہدایات کے مطابق غذائیں استعمال کرائیں۔ اللہ شفا دے گا۔
چند دنوں کے اندر اندر حیض کھل کر آنے لگے گا۔ اگر خون کی کمی ہوگی تو پہلے ماہ خون نہیں آئے گا۔ دوسرے ماہ تکلیف سے تھوڑا سا آئے گا۔ اور تیسرے ماہ بالکل صحیح مقدار میں آئے گا۔
یاداشت: اس نسخہ میں مصبر شامل ہے جو ہلکا سا جلاب آور بھی ہے۔ اگر دست والی کیفیت ہوجائے تو دو دن دوا بند کرکے پھر دن میں دو بار استعمال کریں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

بے قاعدگی حیض میں تشخیصی غلطیاں


ہر عورت کے ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی ہوتی ہے کہ اسے خون حیض کھل کر نہیں آتا بلکہ تھوڑا تھوڑا آتا ہے۔ اگر کھل کر آجائے تو میں ٹھیک ہوجاؤں۔ اس کی اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیے معالج حضرات اصل سبب تلاش کرنے کی بجائے حیض زیادہ لانے کی دوا تجویز کریتے ہیں ۔ جس سے بعض اوقات تکلیف زیادہ ہوجاتی ہے۔
یاد رکھیے: کسی بھی مرض کا علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض کے سبب کا علاج کرنا چاہیے۔
مرض کا سبب دور ہوگا تو مرض کا علاج خود ہی ہوجائے گا۔ مثلاً اگر پاؤں میں کانٹا لگا ہے  اور کانٹا لگنے سے زخم ہوگیا ہے  تو وہاں مرہم پٹی نہیں کردینی چاہیے۔ پہلے زخم کی وجہ یعنی کانٹا ہٹانا چاہیے۔ بعد میں زخم کا علاج کرنا چاہیے۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

حیض کی حقیقت و ماہیت و ضرورت


حیض کی حقیقت و ماہیت و ضرورت:
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی عورت ہو جو صحت مند بھی ہو اور اسے خون حیض نہ آتا ہو، ورنہ ہر نوجوان صحت مند عورت کو ہر ماہ خون حیض آیا کرتا ہے۔
جسے ہند و پاکستان کی عورتیں مختلف محاوروں سے اس کا اظہار کرتی ہیں۔
مثلاً
نماز قضا ہونا۔ کپڑوں سے ہونا۔ کپڑے آنا کہتی ہیں۔
بعض علاقوں کی عورتیں ماہواری آنا، یا پھول آنا کے نام سے پکارتی ہیں۔
کچھ تاریخ  آنا کے نام سے، یا دن آنا کے نام سے بھی اظہار کرتی ہیں۔
غرض مختلف زبانوں ، علاقوں میں مختلف طریقہ اظہار ہے۔
اردو میں اسے حیض کہتے ہیں۔ طب اسلامی میں طمث اور ایلوپیتھک میں مین سس کہتے ہیں۔
خواتین کی تندرستی کے معاملے میں حیض کا خاصا عمل دخل ہے۔
یہ خواتین کی صحت کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔
اگر حیض کا دورانیہ ، مدت ، اور مقدار بالکل صحیح ہے تو عورت تندرست ہے۔ ورنہ اس کی صحت خراب ہے۔اور اسے معالجاتی توجہ کی ضرورت ہے۔
حیض کا دورانیہ: تندرست عورتوں میں حیض کا دورہ 28 روز کے بعد ہر ماہ ہوا کرتا ہے۔ البتہ بعض عورتوں کو 24 روز  بعد اور بعض کو 32 روز بعد بھی آیا کرتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ باقاعدہ رہے تو مرض میں شمار نہیں کیا جاتا۔ مثلاً جس عورت کو 24 روز بعد آتا ہے تو اسے ہر بار 24 روز بعد ہی آنا چاہیے، یہ نہ ہو کہ کبھی 24 روز بعد ہوا ، اور کبھی 30 روز بعد۔
یعنی سلسلہ باقاعدہ رہنا چاہیے۔ اگر بے قاعدگی ہے تو مرض ہے۔
مدت حیض: عام طور پر تندرست عورتوں کو 4 دن سے 6دن حیض آیا کرتا ہے۔
یاداشت: جب حمل قرار پاتا ہے تو حیض آنا بند ہوجاتا ہے۔ لیکن عورت کے معدہ، دل ، دماغ چکرا جاتے ہیں۔ چنانچہ بھوک صحیح نہیں لگتی اکثر بدہضمی رہنے لگتی ہے۔بعض اوقات کوئی شے بھی حاملہ کھائے قے میں نکل جاتی ہے۔ اس طرح حاملہ عورت پریشان رہنے لگتی ہے۔
حیض کا زمانہ:
ہندو پاکستان کی نوجوان لڑکیوں کو عام طور پر 14 سے 16 سال کی عمر میں حیض آنا شروع ہوجاتا ہے۔
لیکن آب و ہوا، زیادہ مرغن اغذیہ کا استعمال، خاندانی ماحول، موروثی حالات، طرز زندگی، جنسی ماحول خصوصاً جہاں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ میل جول ہو۔ مخلوط تعلیم وغیرہ عصبی مراکز کو ہیجان میں لاتے ہیں۔
اس کے علاوہ شہری لڑکیوں کو دیہاتی لڑکیوں کی نسبت حیض جلد آنا شروع ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش اور بنگال کی آب و ہوا میں اکثر 9سال کی عمر میں ہی حیض شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس سرد ممالک جیسے چائنہ، افغانستان، یورپین ممالک میں اکثر 18، یا 20 سال کی عمر میں حیض شروع ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے ، فلم بینی، عشقیہ ناول پڑھنے والی لڑکیوں کو بھی حیض جلد آیا کرتا ہے۔
جسمانی تبدیلیاں: جونہی نوجوان لڑکیوں کو حیض آنا شروع ہوتا ہے، تو ان کے جسم میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ دیگر تبدیلیوں سے قطع نظر ظاہری طور پر ان کے پستان بڑھنے لگتے ہیں جس سے لڑکی کا جسم و سینہ بھر جاتا ہے۔ اور اس کی خوبصورتی دو چند ہوجاتی ہے۔
حیض کی مقدار: عام طور پر تندرست نوجوان لڑکی کو 2سے 4 اونس تک حیض آیا کرتا ہے۔ حیض پہلے روز سیاہی مائل سرخ، دوسرے تیسرے روز گہرا سرخ، چوتھے پانچویں دن ہلکا سرخ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح پہلے روز کم، دوسرے تیسرے روز خوب کثرت سے آتا ہے۔ چوتھے پانچویں دن کم ہو کر بند ہوجاتا ہے۔
حیض کے دوران حفظ ماتقدم:
جس لڑکی یا عورت کو حیض شروع ہو، اسے سردی سے بچنا چاہیے۔ ٹھنڈے مشروبات استعمال نہیں کرنے چاہیے۔ غسل بھی نسبتاً گرم پانی سے کرنا چاہیے۔ ورنہ بعض اوقات اچانک حیض رک کر رحم میں شدید درد کا باعث ہوسکتا ہے۔
دوران حیض لڑکیوں کو گندہ مواد جذب کرنے والی گدیاں (سینٹر پیڈ) استعمال کرنی چاہیے، جب وہ حیض سے تر ہوجائیں تو بدل دینی چاہیے۔ یہ گدیاں صاف ستھری ہونی چاہیے ورنہ کسی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ