بھوک پر غذا کھانے کے فوائد


بھوک پر غذا کھانے کے فوائد
جس طرح تندرست انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھوک پر غذا کھائے اسی طرح مریض کے لئے تو اشد ضروری ہے کہ وہ بغیر شدید بھوک کوئی غذا نہ کھائیں۔ کیونکہ بھوک کی طلب نہ ہونا اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ یا تو جسم میں پہلے ہی غذا موجود ہے یا پھر طلب غذا کے عضو میں خرابی ہے اس لئے لازم ہے کہ بغیر بھوک غذا نہ کھائی جائے، کیونکہ بغیر شدید بھوک کھائی ہوئی غذا خمیر بن جاتی ہے جو ایک قسم کا زہر ہوتا ہے جس سے انسان بیمار ہوجاتا ہے۔

1۔ شدید بھوک سے معدہ و انتڑیوں میں پڑا ہو خمیر جل جاتا ہے جس سے ہر قسم کے امراض جسم و خون سے بھاگ جاتے ہیں۔
2۔ شدید بھوک اگر تین دن بھی نہ لگے تو کسی قسم کی غذا نہ کھائیں البتہ چائے قہوہ یا کوئی پھل کھاسکتے ہیں۔
3۔ شدید بھوک سے دوران خون تیز ہوکر پورے جسم سے ہر قسم کے فضلات خارج ہوجاتے ہیں۔
4۔ شدید بھوک پر کھائی ہوئی غذا ہضم ہو کر خون بن جاتی ہے اس کے برعکس بغیر بھوک کھائی ہوئی غذا خمیر بن کر امراض میں اضافہ کردیتی ہے۔
5۔ شدید بھوک بعض امراض سے نجات حاصل کرنے کا بہترین راستہ ہے۔
6۔ ہر شخص کو اپنے مزاج کے مطابق اغذیہ ادویہ استعمال کرنی چاہیے، اگر مزاج کے مخالف استعمال کی گئیں تو نتیجہ امراض کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

بغیر ضرورت کھائی ہوئی غذا ضعف پیدا کرتی ہے

بغیر ضرورت کھائی ہوئی غذا ضعف پیدا کرتی ہے۔
دنیا میں کوئی غذا یا دوا ایسی نہیں ہے جو انسان کو بلاضرورت اور بلاوجہ طاقت بخشے مثلاً دودھ ایک مقوی غذا سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جن لوگوں کے جسم میں بلغم و رطوبات اور ریشہ کی زیادتی ہو ان کے لیے سخت مضر ہے۔ گویا جن لوگوں کے دماغ اور اعصاب میں تحریک و تیزی اور سوزش ہو وہ اگر دودھ کو طاقت کے لئے استعمال کریں گے تو ان کا مرض روز بروز بڑھتا جائے گا اور وہ طاقتور ہونے کی بجائے کمزور ہوتے جائیں گے۔

اسی طرح دوسری مقوی اور مشہور غذا گوشت ہے ہر مزاج کے لوگ اس سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک فاضل حکیم جانتا ہے کہ گوشت کا ایک خاص مزاج ہے۔ اگر کسی انسان کا وہ مزاج نہ ہو تو اسکے لئے مفید ہونے کی بجائے نقصان دہ ہوتا ہے۔ مثلاً جن لوگوں کا بلڈپریشر ہائی ہو ان کو اگر بھنا ہوا گوشت کھلا دیا جائے تو شدید نقصان دے گا۔ اسی طرح جن لوگوں کے جگر و گردوں میں سوزش ہو انکو بھی گوشت طاقت دینے کی بجائے سخت نقصان دے گا۔

اسی طرح مقوی اور مشہور غذا گھی ہے۔ جو اس قدر ضروری ہے کہ تقریباً ہر قسم کی غذا تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو ضعف جگر ہو تو اگر گھی کا استعمال کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں بلکہ تمام جسم پھول جائے گا، سانس کی تنگی پیدا ہوجائے گی، ایسا انسان بہت جلد مرجائے گا۔

دنیا میں کوئی ایسی دوا مفرد یا مرکب نہیں ہے جس کو بلاوجہ اور بغیر ضرورت استعمال کریں اور وہ طاقت پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ فن علاج کو پیدا ہوئے ہزاروں سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسی غذا یا دوا تحقیق نہیں ہوئی جو بلا ضرورت خون پیدا کرے، یا طاقت دے۔

آج کل مارکیٹ میں طب اور ایلوپیتھی کی ہزاروں ادویات ، مقوی، سپیشل ٹانک اور جنزل ٹانک کے ناموں سے فروخت ہورہی ہیں یہ ادویات نہ صرف ہمارے ملک کے کروڑوں روپے برباد کرہی ہیں بلکہ بہت ہی خطرناک امراض پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔
ان ادویات کے بے جا استعمال سے تپ دق، سل، ذیابیطس، ہائی بلڈپریشر، فالج، عصبی امراض وغیرہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ہر سال ہزاروں افراد ان میں گرفتار ہوکر مرجاتے ہیں۔
لیکن افسوس ہے کہ ملک کے کسی بھی طریقہ علاج کے معلاج نے ان مقوی پیٹنٹ ادویات کو فوری طور پر بند کرنے کا مشورہ نہیں دیا تاکہ ملک کی دولت اور قوم کی صحت برباد نہ ہو۔


مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

غذا کس قسم کی کھانی چاہیے؟


غذا کس قسم کی کھانی چاہیے؟
قانون مفرد اعضاء کے تحت غذا تین قسم کی ہوتی ہیں۔

اعصابی غذا: جس سے دماغ و اعصاب تحریک و تیزی میں آجاتے ہیں اس میں دودھ گھی، مکھن ملائی، جلیبیاں، مربہ گاجر ، گلقند سبزیوں میں توری کدو، ٹنینڈے، پیٹھا، اروی ، بھنڈی توری ، سری پائے، پھلوں میں تربوز، کیلا ، امرود ، مٹھے، خربوزے، گنا وغیرہ شامل ہیں۔

عضلاتی غذا: جس سے جسم کے عضلات و قلب تحریک میں آجاتے ہیں۔ ان میں مربہ آملہ مربہ گاجر ، مونگ پھلی، چھوہارے، منقٰی، قہوہ لونگ دار چینی،
سبزیوں میں کریلے، بینگن، ٹماٹر، آلو، گوبھی، اچار پکوڑے، دہی بھلے، آلو چھولے، کوئی گوشت ، اوجھری، مرغ، بٹیر، وغیرہ
پھلوں میں انار، آلو بخارہ ، جامن وغیرہ شامل ہیں۔

غدی غذا: جس سے جسم انسان کے جگر و غدد تحریک و تیزی میں آجاتے ہیں۔ اس میں مربہ ادرک، مغز بادام، آم، شہد، کھجور، اجوائن پودینہ کا قہوہ، سبزی گوشت جس میں زیادہ تر بکری ، دنبہ کا گوشت شامل ہیں۔ سرسوں کا ساگ، تارا میرا، میتھی، پودینہ، ادرک، لہسن، پیاز، سرخ مرچ کی چٹنی، مسور کی دال،
پھلوں میں آم، انگور، چلغوزہ، اخروٹ، پپیتہ وغیرہ شامل ہیں۔

کوئی بھی مریض ہو اس کے جسم میں انہیں غذاؤں میں سے کسی غذا کی کمی ہوگی۔ لہذا انہیں میں سے کوئی ایک غذا تجویز کرنا پڑے گی۔
مثلاً کسی مریض کے جسم میں رطوبات بلغم بڑھ گئی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں اس کے اعصاب و دماغ تحریک و تیزی میں ہیں۔ اس کے قلب وعضلات کمزور ہوگئے ہیں۔ جسے قانون مفرد اعضاء میں تسکین قلب و عضلات کہتے ہیں۔ لہذا معالج ایسے مریض کو عضلاتی غذا یعنی محرک قلب و عضلات کہتے ہیں۔ اس سے مریض کو نزلہ ریشہ ، زکام، بلغم کھانسی، دست، قے اور رطوبات کی کثرت میں کمی واقع ہوکر آہستہ آہستہ شفا ہوجائے گی۔
اسی طرح کسی مریض کے عضلات تحریک کی وجہ سے اس کے جگر و غدد کمزور ہو کر سکون اختیار کر گئے ہیں۔ ایسے مریض کو معالج، محرک غدد و جگر غذا تجویز کرے گا، جس سے سودا کی کثرت ریح دردیں، درد معدہ، اختلاج قلب وغیرہ تک غائب ہوجائیں گے۔

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

کھانے پینے کے متعلق حکم الٰہی

كُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ
کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو۔ (7:31)۔

کھانے پینے کے متعلق اللہ تعالٰی نے رازق مخلوق ہوتے ہوئے اپنے نائب انسان کو اجازت دی کہ اپنی ضرورت کے مطابق کھائے اور پئے
لیکن 
ساتھ تنبیہ کردی کہ کھانے پینے کے متعلق اجازت ضرور ہے لیکن اگر جسم و اعضاء کی ضرورت کو مدنظر نہ رکھا گیا تو تمہارا یہ فعل و عمل اسراف میں شمار ہوجائے گا، حلال اور طیب غذا بھی اسراف میں شمار ہوجائے گی جو میرے( اللہ کے) حکم زبردست خلاف ورزی ہوگی۔ 

اسراف کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالٰی کا برتاؤ

اللہ تعالٰی نے اسراف کرنے والوں کو سزا کے طور پر کہا کہ تم باوجود اسراف سے منع و روکنے کے باز نہ آئے تو
إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا
درج بالا حکم الٰہی کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو بہت سے رموز و اسرار آشکار ہوتے ہیں۔
كُلُواْ وَاشْرَبُواْ کہہ کر کھانے پینے کی اجازت ضرور دی گئی ہے۔
 لیکن تنبیہ (وَلاَ تُسْرِفُواْ) سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا پینا بلاوجہ بلا ضرورت نہیں۔ بلکہ اپنے جسم و اعضاء کی ضرورت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ تم سے اسراف ہوجائے گا۔ اور اسراف کی سزا یہ ہے کہ اللہ انہیں پسند نہیں فرماتا۔
ظاہر ہے اللہ تعالٰی جس بندے سے ناراض ہوجائیں تو اسے تندرستی کی بجائے بیماری ہی دیں گے۔
لہذا ہمیں اللہ تعالٰی کے حکم اور تنبیہ کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے تاکہ اللہ تعالٰی کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔

 


مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

غذا کے بارے میں ابتدائی معلومات


ہمارا جسم ایک مشین کی طرح ہے جسے آپ کار یا گاڑی کے انجن سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ کار کے انجن میں پٹرول جل کر توانائی مہیا کرتا ہے۔
جبکہ ہمارے جسم میں خوراک جل کر توانائی مہیا کرتی ہے۔
جو غذائیں جل کر جسم میں توانائی مہیا کرتی ہیں۔ انہیں توانائی مہیا کرنے والی غذائیں کہا جاتا ہے۔
مثلاً چینی، نشاستہ، خوردنی تیل گھی، اور چربی وغیرہ۔
ان مشینوں اور انسانی جسم میں فرق یہ ہے کہ انسانی جسم قدوقامت میں بڑھتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بچپن سے جوانی تک جسم کے مختلف اعضاء میں نشوونما کی وجہ سے تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس نشوونما کے لیے مطلوبہ بنیادی مواد غذاؤں سے ہی پورا ہوتا ہے۔ ایسی غذائیں جو جسم کے قدوقامت میں نشونما کا باعث بنتی ہیں۔ نشوونما کرنے والی غذائیں کہلاتی ہیں۔ جیسے پروٹین جو دالوں اور پھلی قسم کی اجناس، گوشت، مچھلی، دودھ، اور انڈے وغیرہ سے حاصل کی جاتی ہیں۔
کار کے انجن میں دوسرے تیل بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے موبل آئل اور بریک آئل وغیرہ جو انجن میں جلنے کا کام تو نہیں کرتے لیکن انجن کی صحیح حالت کے لیے ضروری ہیں۔ انسانی خوراک میں یہی حیثیت وٹامنز، نمکیات، اور معدنیات کو حاصل ہے۔
یہ وٹامنز جسم کو توانائی تو مہیا نہیں کرتے لیکن جسم کو دوسری غذاؤں سے توانائی حاصل کرنے میں مدد ضرور کرتے ہیں۔ وٹامنذ کو حفاظتی خوراکیں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سبزیوں اور پھلوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ہمارے جسم میں معدنیات اور نمکیات بھی قلیل مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کیلشیم ہڈیوں کا اہم جزو ہے اور فولاد خون کا ایک حصہ ہے۔ سوڈیم اور پوٹاشیم جسم کے حضوں کی کارکردگی کے لیے ضروری ہیں۔
پانی ہمارے جسم کا ایک اہم جزو ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سارے جسمانی وزن کا ساٹھ فیصد پانی پر مشتمل ہے مختلف اعضاء کے اندر پانی کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ اور تھوڑی سی کمی بھی جسمانی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

تعریف قانون مفرد اعضاء

جو غذا ہم کھاتے ہیں اس سے اخلاط بنتے ہیں۔ جب یہی اخلاط مجسم صورت اختیار کرتے ہیں  تو مفرد اعضاء بن جاتے ہیں۔ حیاتی مفرد اعضاء  دل، دماغ، جگر میں سے کسی ایک کی غیر طبع تحریک سے امراض پیدا ہوتے ہیں مسکن مفرد اعضاء کو تحریک دینے سے امراض دور ہوجاتے ہیں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

قانون مفرد اعضاء -ایک فطری طریقۂ علاج


قانون مفر د اعضاء کی تعریف

نظریہ مفرد اعضاء کی ایک ایسی تحقیق ہے جس سے ثابت کیا گیا ہے کہ امراض کی پیدائش مفر اعضاء یعنی گوشت ،پٹھے اور غدد میں ہوتی ہے ۔اور اس کے بعد مرکب اعضاء کے افعال میں افراط و تفریط اور ضعف پیدا ہوجاتا ہے ۔ علا ج کی صورت میں انہی مفرد اعضاء کے افعال درست کر دینے سے حیوانی ذرہ خلیہ یا سیل (Cell) سے لے کر عضوِ رئیس تک کے افعال درست ہوجاتے ہیں بس یہی ’’نظریہ مفرد اعضاء ‘‘ہے۔
مجدد طب ؒ نے ایک تہائی صدی تک متواتر شب و روز تحقیق و تجدید پر محنتِ شاقہ صرف کی ۔طب کے بحرِعمیق میں اتر کر نیا گوہر نایاب تلاش کیا ۔جسے ’’نظریہ مفرد اعضاء ‘‘کا نام دے کر دنیا ئے طب کی خدمت میںپیش کر دیا ___جو اَب’’ قانون مفرد اعضاء ‘‘کے نام سے موسوم و معروف ہو چکا ہے ۔

قانون مفرد اعضاء کا مقصد

طب قدیم کا علم و فن تشخیص و تجویز کے سلسلے میں کیفیات و امزجہ و اخلاط تک ہی محدود تھا اور ماڈرن میڈیکل سائنس اس ایٹمی دور تک اپنی تدقیقی تحقیقات کے نتیجے میں صرف منافع الاعضاء (PHYSIOLOGY)کا ہی کارنامہ انجام دے سکی ۔ جب کہ مجدد طب ؒ نے کیفیات ،امزجہ اور اخلاط کو مفرد اعضاء سے تطبیق دیتے ہوئے طب کو اس انداز میں پیش کیا کہ ایک طرف طب قدیم کی اہمیت واضح ہو گئی اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ جس طریقہ علاج میں کیفیات امزجہ اور اخلاط کو مد نظر نہیں رکھا جاتا وہ نا صرف غلط بلکہ غیر علمی ،غیر سائنسی اور عطائیانہ علاج ہے ۔کیفیات ، امزجہ اور مفرد اعضاء کی باہمی تطبیق سے طب قدیم میں زندگی پیدا ہوگئی اور ساتھ ہی اعضاء کے افعال کے علاج و درستی کی صورت سامنے آگئی جس کے نتیجے میں تجدید طب کا سلسلہ قائم ہوگیا اور ’’نظریہ مفرد اعضاء ‘‘قدیم و جدید جملہ طریقہ ہائے علاج (طبوں ) کے لئے معیار اور کسوٹی بن گیا ہے ۔

قانون مفردا عضاء کی تشریح :

نظریہ مفرد اعضاء میں حیوانی ذرہ (CELL)کو جسم کی بنیاد اول (فرسٹ یونٹ ) قرار دینے کے بعد کیفیات ،امزجہ اور اخلاط کو مفرد اعضاء سے تطبیق دے کر ان کے تحت امراض و علامات کی ماہیت و حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
ماڈرن میڈیکل سائنس (فرنگی طب )نے بھی جسم انسانی کی اصل بنیاد پہ چار انسجہ(TISSUES)تسلیم کئے ہیں ۔جن کو
      اعصابی انسجہ (NERVOUS TISSUES)
      عضلاتی انسجہ(MUSCULAR TISSUES)
      قشری انسجہ (EPITHELIAL TISSUES)
      الحاقی انسجہ (CONNECTIVE TISSUES)کہتے ہیں ۔
مجدد طب و بانی نظریہ مفرد اعضاء حضرت صابر ملتانی ؒ نے ان چاروں انسجہ کو چاروں اخلاط سے تطبیق دے دی ہے ۔
نظریہ مفرد اعضاء میں مفردا عضاء اور اخلاط ایک ہی چیز ہیں یا بالفاظ دیگر مفرد اعضاء مجسم اخلاط ہیں ۔خلیات یا حیوانی ذرات (CELL) سے انسجہ TISSUES) ، انسجہ سے مفرد اعضاء (SIMPLE ORGANS) اور مفرد اعضاء سے مرکب اعضاء (ComPOUND ORGANS) بنتے ہیں ۔ غرضیکہ خلیہ ہی سے جسم کی تعمیر ہوتی ہے اور مختلف قسم کے خلیات کے ملاپ سے جسم کی تکمیل ہوتی ہے ۔ گویا اناٹومی (ANOTOMY)کے پہاڑوں کو قانون مفرد اعضاء کے ریڈار نے ڈھانچہ دماغ ،جگر اور قلب کے روپ میں دکھا کر دنیائے طب کی شرح صدر کردی ہے ۔ قدرت نے اعضاء کی ترتیب و ترکیب یوں رکھی ہے کہ
’’اعصاب ‘‘ اوپر رکھے ہیں اور ہر قسم کے احساسات ان کے ذمہ ہیں ۔
’’غدد‘‘ کو درمیان میں رکھا ہے اور غذا کی ترسیل ان کے ذمے ہے۔
’’عضلات ‘‘ سب سے نیچے (اندر) رکھے ہیں اور تمام قسم کی حرکات ان سے متعلقہ ہیں ۔
بس یہی طبعی افعال سر انجام دیتے ہیں ۔اور نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق اعضائے رئیسہ دل ،دماغ اور جگر حیاتی اعضاء (LIFE ORGANS) ہیں جو کہ بالترتیب عضلات ، اعصاب اور غدد کے مراکز ہیں ۔ ان کے افعال میں افراط ، تفریط اور ضعف سے امراض پیدا ہوتے ہیں ۔اور انہیں مفرد اعضاء کے افعال درست کر دینے سے ایک حیوانی ذرہ (CELL)سے لے کر عضوِ رئیس تک کے افعال درست ہوکر صحت قائم اور ’’تن‘‘درست ہوجاتا ہے ۔ ’’تن درستی ‘‘ ہی طب کا مطلوب و مقصود ہے ۔

نظریہ مفرد اعضاء کا تخلیقی اصول

یہ نظریہ فطرت کا ایک اصول ہے جو مادہ اور جوہر سے ماخذ ہے ۔’’یعنی جوہر سے مادہ پیدا ہوتا ہے ‘‘گویا مادہ کی اصل جوہر ہے اور ہر چیز اپنی اصل کی طرف راجع ہوتی ہے ___’’کل شیء یرجع اصلہ ‘‘ ۔
اس لئے جوہر و مادہ اپنے افعال و اثرات کی حیثیت سے یکساں یعنی ایک جیسے خواص و فوائد رکھتے ہیں ۔مراحل کے لحاظ سے جو ہر مادہ ،مادہ سے عنصر ،عنصر سے خلط ،خلط سے مفرد عضو اور مفرد اعضاء کے مجموعے سے جسم ترکیپ پاتا ہے ۔ گویا جوہر مجسم ہو کر مادہ بن جاتا ہے جب مادہ میں تخصیص ہوتی ہے تو وہ عنصر بن جاتا ہے اور عناصر محلول بن جاتے ہیں تو اخلاط پیدا ہوتی ہیں اور اخلاط مجسم ہو کر مفرد اعضاء بن جاتے ہیں یہی مفرد اعضاء علم الابدان اور فن طب کی بنیاد ہیں ۔

محرکاتِ زندگی

جسم میں اعضائے کا کنٹرول اعضائے رئیسہ ___دل، دماغ اور جگر ___ کے پاس ہے ۔
اگر جسم میں رطو بت زیا دہ ہوگی تَو وہ اعصاب کو تیز کر دے گی ۔ اگرحرارت زیا دہ ہو گی تَو وہ غدد کو تیز کر دے گی ۔ اسی طرح اگر ہوا(ریاح) کی زیادتی ہو گی تَو وہ عضلات کے فعل کو تیز کر دے گی۔
اسی طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ :
مرطوب اغذیہ اعصاب میں تقویت پیدا کر تی ہیں ۔ گرم اغذیہ غدد کو طا قت دیتی ہیں ۔ خشک اغذیہ مقویٔ عضلات ہیں ۔
یا دوسری لفظوں میں :
اگر جسم میں رطو بات بڑھ جا ئیں تَو اعصاب میں تحریک بڑھے گی ۔ حرار ت بڑھ جا ئے تَو غدد و جگر میں تحریک بڑھ جا ئے گی۔ خشکی و ریاح کا غلبہ ہو تَو عضلا ت میں تحریک بڑھ جا ئے گی۔
اس کے بر عکس:
اعصاب کے فعل میںتیزی سے رطو بات بڑھ جا تی ہیں ۔ غدد کے فعل میں تیزی سے حرارت بڑھ جا تی ہے ۔ عضلا ت کے فعل میں تیزی سے خشونت و ریاح بڑھ جا تے ہیں ۔
گو یا اعضائے رئیسہ __ رطو بت ،حرارت اورہوا __ لازم وملزوم ہیں اوریہی تینوں فطری اجزاء ہیں ، جو کا ئنات میں با رش ، آندھی اور گر می کی صُورت میں نظر آ تے ہیں ۔ ثابت ہوا کہ محرکاتِ زندگی صرف تین ہیں :
ہوا ، آگ ، پانی یعنی ریاح ، حرارت ، رطوبت
ریاح (ہوا) محرکِ عضلا ت ، حرارت محرکِ غدد اور رطوبت محرکِ اعصاب ہے ۔
کسی طب کے اصولی ، با قاعدہ ا ور فطری ہو نے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں مشینی اور کیمیا وی دونوں صورتیں پا ئی جائیں۔ قانون مفرد اعضا ء کا یہی کمال ہے کہ اس میں مشینی اور کیمیا ری صورتوں کے ساتھ ساتھ کائنات کے ارکان و امزجہ اور قویٰ و ارواح کی تمام صورتیں بھی بیان کر دی گئی ہیں ۔ گو یا زندگی اور کائنات کے ذروں کو ایک دوسرے میں سمو دیا گیا ہے ۔ یعنی اگر کا ئنات کا ذرہ بھی حرکت کر تا ہے تَو زندگی پر اثر انداز ہو تا ہے ۔ اگر زندگی کے ذرے میں حرکت پیداہو تَو کائنات تک کو متا ثر کر تا ہے ۔ کا ئنات میں پا ئی جا نے والی تمام اشیا ء کے مزاج میں دودو کیفیات پا ئی جا تی ہیںجیسے کو ئی گرم خشک ، کو ئی گرم تر اور کو ئی خشک سردوغیرہ ۔ یہی کیفیات موسم کی صورت میں دُنیا بھر کی اغذیہ ، ادویہ اور دیگر اشیاء کی نمودکا با عث بنتی ہیں ۔
نباتات انسان و حیوان کی بہترین خوراک ہیں ۔ بعض نباتا ت اگر چہ انسان کی خوراک نہیں ، لیکن یا تَو وہ ادویہ کا روپ دھا ر لیتی ہیں یا پھر حیوانات کی غذا بنتی ہیں ، پھر یہ حیوانات انسان کی غذا بنتے ہیں ۔ غرضیکہ اسی آب و ہوا کے عمل دخل سے یہ انواع و اقسام کی اغذیہ و ادویہ حاصل ہو تی ہیں ۔یہی اغذیہ نظامِ انہضام سے گزر کر خون کا روپ دھا ر لیتی ہیں ۔ ثابت ہوا کہ آب و ہوا کیفیات کامجموعہ ہے ۔ انسانی مزاج بھی کیفیات ہی کا مجموعہ ہے ۔ مظاہرِ قدرت کی روشنی میں سال بھر کے مہینوں کی موسمی تبدیلیوں کا گیا رہ (۱۱) سالہ ڈیٹا لے کر اس کا اوسط نکالا گیا، جس سے موسم کی سالانہ تبدیلیوں کا نقشہ کھل کر سامنے آگیا ۔ قدرت موسم کی دونوں کیفیتوں کو ایک دم نہیں بدلتی بلکہ گرمی خشکی حد سے تجا وز کر جا ئے تَو بر سات کے ذریعے اسے گرمی تری میں بدل دیا جا تا ہے ۔
جو نفس میں ہے ، وہی آفاق میں ہے کی مسلمہ حقیقت کے تحت انسانی جسم الوجود کا کو ئی موسم حد سے تجاوز کر تا ہے تَو امراض پیدا ہو تی ہیں ۔ فطرت کے اس قانون پر غور کر نے سے درس ملتا ہے کہ جسم کا جو مزاج حد سے تجا وز کر گیا ہے ، اس کی ایک کیفیت بدل دو یعنی اگر مزاج گرم خشک ہے تَو اسے گرم تَر کر دو ، جسم کے تمام دُکھ دُور ہو جا ئیں گے ۔ اس طرح جسم الوجود کے مزاج کو بھی ہم موسم کا نام دے سکتے ہیں۔جیسے فروری کا موسم خشک سرد ہو تا ہے ، اسی لئے اس ماہ میں لوگ خشک سرد کیفیات سے پیدا ہونے والی امراض کا شکا ر ہو تے ہیں ۔ مثلاً انسانی جلد کا خشکی سردی سے پھٹنا ، خصوصاً چہرہ ، ہا تھ ، تشقق الشفتین ، پا ؤں کی ایڑیاں پھٹنا ، ضیق النفس وغیرہ ۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ ایسا کچھ ان لو گوں کے ساتھ ہو تا ہے ، جس کے جسم کا اندرونی موسم بھی عضلاتی اعصابی یعنی خشک سرد ہو تا ہے ۔

امراض و علا ما ت کا فرق

اعضاء کے افعال میں بگاڑ کا نام مرض ہے ۔ جسمِ انسانی میں جو اعضاء اپنے افعال صحیح انجام نہیں دے رہے ، ان سے جسمِ انسانی کی طرف جو صورتیں دلا لت کر تی ہیں ، بس وہی علا ما ت ہیں ۔ مثلاًوجع المعدہ کو مرض قرار دینا غلط ہے ۔ مرض عضلاتی سوزش ہے ، اور علامت وجع المعدہ ۔
امراض صرف اعصاب و غدد و عضلات میں تحریک و تیزی اور سوزش و ورم کا نام ہے ۔ اس کو زیادہ وسعت دی جا ئے تَو صرف اتنا کہا جا سکتا ہے ، امراض مفرد اعضاء کے افعال میں افراط و تفریط اور ضعف کا نام ہے ، با قی سب علامات ہیں ۔

تشخیص

قانون مفرد اعضاء میں تشخیص کے لیے اعصاب ، غدد اور عضلات کے آپسی تعلقات سے چھ تحاریک تحقیق کی گئی ہیں:
      ۱۔ اعصابی عضلاتی       ۲۔ عضلا تی اعصابی
      ۳۔ عضلا تی غدی       ۴۔ غدی عضلاتی
      ۵۔ غدی اعصابی       ۶۔ اعصابی غدی
جسمِ انسانی کی تقسیم بھی چھ حصوں میں کر دی گئی ہے :
ہر چھ تحاریک کی علامت کو سر سے لے کر پاؤں تک نکھیڑ کر بیان کر دیا گیا ہے ۔ علامات کی یہ تقسیم امراض کی تشخیص کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔
قانون مفرد اعضاء میں ہر تحریک کی نبض مقرر ہے :معالج بڑی آسانی سے چھ قسم کی نبض پر دسترس و عبور حاصل کر لیتا ہے۔ جس سے نبض دیکھ کر امراض کا بیان کر دینا اور تفصیلا ت کا ظا ہر کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
قارورہ کے رنگ ، مقدار ، قوام اور بُو کو مدِ نظر رکھ کرتشخیص کا آسان طریقہ بیان کر دیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ علم و فنِ طب میں قارورہ سے تشخیص کو مفرد اعضاء کے تحت پہلی با رقانون مفرد اعضاء نے بیان کیا ہے ۔
سال بھر کے موسموں کی فطری تقسیم اور پھر ان سے پیدا ہو نے والی امراض کی نشاندہی قانون مفرد اعضاء کا ایک منفرد کارنامہ ہے۔
ہر مرکب عضو میں جس قدر امراض پیدا ہو تے ہیں ، ان کی جُدا جُدا صورتیں تحقیق کی گئی ہیں ۔ ہر صورت کی علا ما ت بھی جُدا جُدا ہیں ۔ فوراً ٰیہ پتہ چل جا تا ہے کہ اس عضو کا کو نسا حصہ بیما ر ہے اور اس کا علاج آسانی سے کیا جا سکتا ہے ۔
انا ٹمی تشریح الابدان کا نام ہے اور پتھا لو جی کا مطلب یہ ہے کہ ایسا علم جو اعضاء کے افعال میں رونما ہو نے والے تغیّر و تبدّل اور کمی و بیشی کو بیان کرے ۔
ماڈرن میڈیکل سائنس میں تشریح الا بدان کی لمبی چوڑی تشریحات کے با وجود تشخیص و علاج میں سر ، آنکھ ، ناک ، کان ، گلا اور منہ الغرض سر سے لے کر پا ؤں تک کے تمام اعضاء کا جو سلسلہ ہے ، ان سب کو ایک ہی قسم کے ٹھوس اعضاء سمجھ لیا جا تا ہے جبکہ اناٹمی اور فزیالوجی میں رگ ، پٹھہ ، ریشہ ، غشاء اور حجاب کوجُدا جُدا بیان کیا جا تا ہے لیکن ماہیتِ امراض (پتھالوجی) اور علاج الامراض میں پورے کو پو رے عضو کو مدِ نظر رکھا جا تا ہے ۔
پیٹ میں نفخ ہو یا قے ، جو ع البقر ہو یا جو ع الکلب ، تبخیر ہو یا ہچکی ___ بس یہی کہاجا ئے گاکہ پیٹ میں خرابی ہے ۔ ان علامات میں اعضائے غذائیہ کی شاذ ہی تشخیص کی جا ئے گی ۔ اور اگر کسی ’’روشن دماغ‘‘ اہلِ فن نے پیٹ کی خرابی میں معدہ و امعاء ، جگر و طحال اور لبلبہ وغیرہ کی تشخیص کر بھی لی تَو اس کو بڑا کمال خیال کیا جا ئے گا لیکن اس حقیقت کی طرف کبھی خیال نہیں جا ئے گا کہ معدہ و امعاء وغیرہ خود مرکب اعضاء ہیں اور ہر ایک عضو اعصاب ، غدد ، عضلا ت اور الحاقی مادہ سے مل کر بنا ہوا ہے ۔ معدہ کے ہر مفرد عضو کی علا ما ت مختلف اور جُدا جُدا ہیں مگر ’’فلسفیانِ علاج‘‘اور ’’ماہرینِ تشخیص‘‘ کلی عضو کو سامنے رکھ کر تشخیص و علاج کا حکم لگا رہے ہیں ۔
فاعلم کہ معدہ و امعاء کے اعصاب کی تیزی و تحریک سے اسہال ، غدد کی تیزی سے پیچش اور عضلات کی تیزی سے قبض رُونما ہو گی ۔ پھر تینوں کو ایک ہی عضو سے منسوب و موسوم کر نا یا مرض تشخیص کر نا کہاں کی حکمت ہے ؟
قانون مفرد اعضاء میں امراض کی تقسیم بالاعضاء بیان کی گئی ہے ۔ اسی طرح علاج میں مفرد اعضاء کو پیشِ نظر رکھنا صرف اور صرف مجددِ طب صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی تحقیقِ جدید اور عالمگیر کا رنامہ ہے۔ اس کا سب سے بڑا فا ئدہ یہ ہے کہ مرکب عضو میں جس قدر امراض پیدا ہو تے ہیں ، ان کی جُدا جُدا صورتیں سامنے آجا تی ہیں ۔ اس سے فوراً پتہ چل جا تا ہے کہ اس عضو کا کو نسا حصہ بیما ر ہے ۔ اس نشاندہی سے علاج با آسانی اور یقینی کیا جا سکتا ہے ۔

اصول علاج

جسم میں کیفیات ،امزجہ ،اخلاط اور کیمیائی تبدیلیاں مفرد اعضاء کو متاثر کرتی ہیں اور ان کے افعال و اعمال کے غیر متوازن ہوجانے کا نام مرض ہے ۔ اس عدم توازن کو متوازن کردینے یا اعتدال پرلانے کا نام شفا ہے ۔اور جن طرائق و تدابیر سے یہ توازن قائم کیا جاتا ہے اس حکمت عملی کا نام علاج ہے اور یہی ’’وزنوا بالقسطاس المستقیم ‘‘کی عملی تفسیر ہے ۔
نظریہ مفرد اعضاء کا کمال یہ ہے کہ اس میں کیفیات ،امزجہ ،اخلاط و اعضاء اور ان کے افعال و اثرات اور امراض و علامات کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرودیا ہے۔مقامات جسم ،قارورہ و نبض کو امراض و علامات پر منطبق کر کے تشخیص و علاج میں آسانی یقینی اور بے خطا صورتیں پیدا کردی ہیں ۔
اس لئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ
      علمِ طب :
      معدوم تھا       بقراط نے ایجاد کیا
      مردہ تھا       جالینوس نے زندہ کیا
      متفرق تھا       رازی نے جمع کیا
      ناقص تھا       بوعلی سینا نے مکمل کیا
      غیر منطبق تھا       مجدد طب صابر ملتانی نے منطبق کیا
      ظنی تھا       حکیم انقلاب صابر ملتانی نے یقینی بنا دیا
اگر کوئی پوچھے ’’کیسے؟ ‘‘ تَو جواب حاضر ہے ـ:
      مفرد اعضاء کی ارکان سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی کیفیات سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی مزاج سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی اخلاط سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی خلیات سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی اعضائے رئیسہ سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی ارواح سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی قویٰ سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی افعال سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی غذا سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی دوا سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی علامات سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی امراض سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی علاج سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی فلکیات سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی موسم سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی نفسیات سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی قوام خون سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی دوران خون سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی نبض سے تطبیق
      مفرد اعضاء کی قارورہ سے تطبیق
غرضیکہ مظاہر قدرت کا فکر سلیم کی فائیکرو سکوپ میں مشاہدہ کیا اور پھر قوت مدافعت بدن (AMUNITIES)کا تعلق اعضاء سے اور قوت مدبرہ بدن (VITAL FORCE)کا تعلق خون سے قائم کر کے ان دونوں قوتوں کی آپس میں معاونت و مماثلت اور موازنت سے عضوی اور دموی نظامات بدن میں تطبیق پیدا کردی ہے ۔ قوت مدبرہ عالم اور قوت مدبرہ بدن کو آپس میں تطبیق ۔ اسی طرح قوت مدافعت عالم اور قوت مدافعت بدن کے نظامات قدرت میں فطرت کی جلوہ نمائی دکھلا کر فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا کا صراط مستقیم دکھا دیا ہے ۔سچ پوچھو تو یہی طب نبوی اور طب اسلامی کا صراط مستقیم ہے جو کہ مختلف طریقہ ہائے علاج کی بھٹکی ہوئی طبی دنیا کو دکھلا ،بتلا اور سمجھا دیا ہے ۔ یہی علم الابدان اور فن طب کی معراج ہے ۔
اب جو معالج اس فطری طبی صراط مستقیم کو اپنا لے گا وقت کا کامیاب ترین معالج بن کر ابھرے گا اور دست شفا سے آراستہ و پیراستہ ہو کر طبی دنیا پر چھا جائے گا ۔
اصحاب بصیرت ،دلِ بینا رکھنے والو!
ذرا غوار کرو کہ اگریہ فطری تطبیق نہیں تو اور کیا ہے کہ :
پانی یعنی رطوبتت کو ہوا خشک کر دیتی ہے ۔ہوا کو آگ (حرارت )گرم کر دیتی ہے اور حرارت کو پانی یعنی رطوبت سرد کر دیتی ہیں یہ فضائی اعمال کا فطری نظام ہے ۔
رطوبات سردی میں بدل جاتی ہیں ،سردی خشکی میں بدل جاتی ہے ، خشکی گرمی میں بدل جاتی ہے اور گرمی رطوبت میں بدل جاتی۔یہ موسمی اعمال کا فطری نظام عمل ہے ۔
بلغم سودا میں بدل جاتی ہے ،ریاح صفراء میں بدل جاتی ہے اور صفرا بلغم میں بدل جاتا ہے ۔یہ بدن کے عضوی اعمال کا فطری نظام ہے ۔
جمادات نباتات کی غذا بنتے ہیں ،نباتات حیوانات کی غذا بنتے ہیں، اورحیوانات انسان کی غذا بنتے ہیں ۔ پھریہ سب جب اپنے انجام کو پہنچتے ہیں تو جمادات کی غذا بن جاتے ہیں ۔یہ غذائی اعمال کا فطری نظام ہے ۔
اسی طرح الکلیز کو ایسڈز نیوٹرل کر دیتے ہیں ،ایسڈز کو سالٹس نیوٹرل کردیتے ہیں اور سالٹس کو الکلیزنیوٹرل کر دیتی ہے یہ کیمیائی اعمال کا فطری نظام ہے ۔
کیا دنیا کے کسی طبی سائنس دان نے قانون فطرت کی اس طرح تشریح کی ہے ، جس طرح کہ نظریہ مفرد اعضاء نے کی؟___طبی دنیا اس کا جواب پیش کرنے سے قاصر ہے !
مجدد طب کا یہ نظریہ مفرد اعضاء (SIMPLE ORGANS THEORY)عین فطری (ABSOLUTELY NATURAL) اور قانون قدرت (LAW OF NATURE)سے مطابقت و موافقت رکھتا ہے ۔قانون مفرد اعضاء کے تحت آپؒ نے نہ صرف جدید تقسیم امراض اور ماہیت امراض پیش کی بلکہ جدید تشخیص اور منطقی (LOGICAL)علاج بھی سامنے لائے ۔لہٰذا بلا خوف تردید تنقید یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظریہ مفرد اعضاء ایک ایسی تحقیق ہے کہ جس کا علم نہ یورپ و امریکہ کو ہے اور نہ روس ،چین ،جاپان و جرمنی اس سے واقف ہیں ۔بلکہ فن طب میں یہ ایک عظیم الشان اور فقید المثال انقلاب ہے اور دنیائے طب جلد ہی سر تسلیم خم کر لے گی کہ صحیح طریقہ و فلسفہ علاج صرف اور صرف قانون مفرد اعضاء ہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب مجدد طب کی تحقیقات کا شہرہ اقوام عالم کے طبّی حلقوں میں تہلکہ مچا دے گا اور انشاء اللہ نظریہ مفرد اعضاء قانون مفرد اعضاء کی صورت میں تمام طریقہ ہائے علاج کی ایک کسوٹی بن کر فن طب کا امام بن جائے گا بلکہ اس سے دیگر علوم میں بھی راہنمائی حاصل کی جائے گی ۔
اب ہمارا فرض ہے کہ مجدد طب کی تحقیقات پر ایمانداری سے غور و فکر کریں ان کے جلائے ہوئے فانوس تحقیق و تجدید کے نور سے طبی دنیا کو منور کردیں ۔اس حقیقت کو کون جھٹلانے کی جسارت کر سکتا ہے کہ قدیم اور سابقہ علم العلاج کی دنیا میں اس نظریے کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ مجدد طب کا طبع زاد اور ذاتی تحقیق و محنت شاقہ کا ثمر اور صحیح معنوں میں جدید نظریہ ہے ۔ ماشاء اللہ
اس میں حیاتی ذرہ (cell)کا بھی دل و دماغ اور جگر چیرتے ہوئے اس کے ایٹمی اثرات تک پہنچ کر انرجی پاور اور فورس کا پتہ چلایا جاتا ہے گویا نظریہ مفرد اعضاء ایٹمی دور کی مکمل تصویر ہے اس سے زیادہ جدید اور جامع قانون طب ، دقیق تشخیص سسٹومیٹک ،تقسیم امراض اور تجویز علاج نہ صرف بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔

حقیقت حال

وہ دن دور نہیں جب طب اسلامی (قانون مفرد اعضاء ) کا سکہ تمام عالم میں چھا جائے گا اور عیار فرنگی طب جن ہتھکنڈوں ، چالاکیوں ،مکاریوں اور عیاریوں سے تیزی کے ساتھ دنیا پر چھا گئی تھی اس سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ فرنگیوں کی طرح فرنگستان بھاگ جائے گی یا طب اسلامی کی خادمہ بن کر حراجوں کی طرح زخموں کی صفائی اور مرہم پٹی کرتی رہے گی ۔
انشاء اللہ
جمہور اطباء جانتے ہیں کہ ماضی میں طب کی ڈوبتی ہوئی نیا کو سہارا کس نے دیا تھا جب فرنگی طب کو شک کی نظر سے دیکھنا جہالت سمجھ لیا گیا ،جب اطباء کی اکثریت نے فرنگی طب کی فوقیت کو تسلیم کرلیا اور طب قدیم کی تجدید فرنگی طب کے مطابق کر کے اس کو فنا کرنے پر تل گئے ۔طب قدیم کے لئے یہ بہت نازک اور خطرناک موڑ تھا ۔

ذرا غور کریں

یہ پراپیگنڈہ زوروں پر تھا کہ فرنگی طب علمی ،اصولی ،سائنسی ،اور باقاعدہ ہے ۔ انگریزی دوائیں دیسی دواؤں سے افضل و اعلیٰ ہیں۔اس وقت یہ بر سر عام کہا جانے لگا کہ طب قدیم مکمل طریق علاج نہیں ہے فرنگی ڈاکٹر طب قدیم کو وحشی ، جنگلی اور غیر علمی ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا ۔جب یہ مان لیا گیا کہ طب قدیم کو جب تک طب جدید کے مطابق نہیں کر دیا جاتا ،اس ترقی یافتہ دور میں کامیابی ناممکن ہے۔
جس وقت فرنگی طریقہ علاج کو تمام طبوں کی سرپرستی سونپنے کی سازشیں ہورہی تھیں_جب فرنگی طب نے اپنی غلط اور غیر علمی (UN SCIENTIFIC) تحقیقات کا تعفن پھیلا رکھا تھا __ فرنگی طب نے جب ہمارے وسائل پر قبضہ کما کر ہماری طبی دنیا کا مالک بننا چاہا __ جب فرنگی مکار نے رجسٹریشن کے کلہاڑے سے طب اسلامی اور یونانی کو قتل کرنیکا منصوبہ بنایا __ جب لوگ کفن لئے طب قدیم کو دفن کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے ___ان کسمپرسی کے حالات میں نیم مردہ طب قدیم بے کسی اور بے بسی کے عالم میں تڑپ رہی تھی ___بے یارو مدد گار نوحہ کناں اپنے مسیحا کو پکار رہی تھی کہ مجھ پر سکوت مرگ طاری ہے کہ کوئی ماں کا لال ہے جو اپنے خون جگر سے میری آبیاری کرے ۔
طب قدیم کی اس فریاد پر ایک مرد آہن ،قانون فطرت سے آراستہ و پیراستہ عزم و استقلال کا پیکر ،فتح و نصرت کا نقیب حاضر خدمت ہو کر بولا:
      میں تیرا خادم ہوں تیری خدمت کو سعادت سمجھوں گا
      میں تیرا مالی ہوں تیری جڑوں کو کبھی خشک نہ ہونے دوں گا
      میں تیرا عَلم بردار ہوں تیرا عَلم سدا بلند رکھوں گا
دنیائے طب جانتی ہے کہ وہ مرد مجاہد کون تھا ؟
یہ مرد مجاہد داعی حق دوست محمد صابر ملتانی ؒ تھا ،جس کو طبی دنیا اب مجدد طب اور حکیم انقلاب کے نام سے یاد کرتی ہے ۔کوئی انہیں ابن سینائے وقت ،کوئی لقمان حکمت ،کوئی مسیحِ طب ،کوئی محقق طب ،کوئی مجددِ طب ،کوئی دانائے طب، کوئی استاذالحکماء ،اور فخر الاطباء کا خطاب دیتا ہے اور کوئی انہیں طب کا بے تاج بادشاہ کہتا ہے ۔ انہوں نے طب اسلامی کو اپنے خون جگر سے سینچا ۔طب نے بھی اپنے محسن کو ہر لقب سے ملقب کر کے تاریخِ طب میں ممتاز کردیا ۔
عطائے اِلٰہی اور عنایت ربانی نے ان کو رموز حکمت اور دست شفا عطا فرما کر عنایات کی حد کردی ۔عنایات کی وہ حد جس کی کوئی حد نہیں ! ماشاء اللہ
یہ مردِ مجاہد دنیائے طب پر یہ واضح کرنے کے لئے میدان طب میں کودا کہ طب اسلامی مغربی طب سے برتر و اعلیٰ اور قانون فطرت پر قائم ہے ۔فرنگی طب غلط اور عطایانہ ہے۔
آپؒ نے چیلنج کیا کہ فرنگی طب غیر علمی اور غلط ہے ۔کسی میں ہمت ہے تو سامنے آئے اور اپنی حقانیت ثابت کرے مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی آپ نے عملی طور پر ثابت کردکھلایا کہ تحقیق و تدقیق اور ریسرچ صرف یورپ ،امریکہ اور چین ہی کا حق نہیں بلکہ ہر قوم کا حق ہے ۔
آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ یہ تسلیم کرلینا کہ فرنگی سائنس جس سچائی اور حقیقت کو نہ پرکھے اور اس پر اپنی مہر ثبت نہ کرے وہ سائنس نہیں ہے ،سراسر غلط ہے ۔ بلکہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ جو علم وسائنس قرآن حکیم و حدیث شریف کے مطابق نہیں وہ غلط اور نامکمل ہے۔
آپ نے دعوتِ تسلیم حق دیتے ہوئے جب پہلی بار فرمایا کہ فرنگی طب نہ صرف غلط ہے بلکہ غیر علمی ہے تو عوام و خواص ،اطباء اور ڈاکٹروں نے ان کا مذاق اڑایا ، نفرت اور حیرت سے ان کی طرف دیکھا ۔جب آپ نے ’’فرنگی طب غیر علمی اور غلط ہے ‘‘شائع کی اور چیلنج بھی کیا تو کسی فرنگی ڈاکٹر سے جواب نہ بن پڑا بلکہ حیرت اور نفرت کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔
فتح ونصرت قانون قدرت اور فطرت کی ہوتی ہے جو لوگ ماڈرن میڈیکل سائنس کا نام سن کر گھبرا جاتے تھے اب ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ صرف بات کر سکتے ہیں بلکہ غلط اور عطایانہ علاج پر تنقید بھی کرسکتے ہیں ۔
آپ نے پے در پے تقریباً ۱۹ کتب تصنیف فرمائیں جو ایک سے بڑھ کر ایک ہے ۔ہر ایک کتاب تحقیقاتی علوم سے مالامال ہے۔حکمت اور فن طب کے ایسے ایسے رموز منصہء شہود پر لائے گئے جن سے ابھی تک اقوام عالم کے طبی سائنس دان بے خبر تھے ۔یہ کتب علوم کا بحر بیکراں ہیں جن سے دنیائے طب ہمیشہ سیراب ہوتی رہے گی ۔

انشاء اللہ القوی العزیز

 

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

غذا، دوا، اور زہر کی حقیقت ایک نظر میں



غذا۔

ایسی شے ہے جو کھانے کے بعد جسم کو تو متاثر نہ کرے بلکہ خود جسم سے متاثر ہو کر جزو بدن بن جائے غذائے خالص کہلاتی ہے۔

دوا۔

ایسی شے ہے۔ جو کھانے کے بعد خود تو جسم سے متاثر نہ ہو بلکہ جسم کو اپنی عنصری کیفیات سے متاثر کرکے جذو بدن ہوئے بغیر خارج ہوجائے دوائے خالص کہلاتی ہے۔

زہر۔

ایسی شے ہے ۔ جو اگر کھائی جائے تو وہ جسم کو اس قدر متاثر کردے کہ جسم کو فنا کردے سم قاتل کہلاتی ہے۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

بچوں کے لئے ڈبے کا دودھ۔ لمحہ فکریہ


تحریر: حکیم محمد عارف دنیاپوری
ابھی چند سالوں ہی کی بات ہے۔ بچوں کو ماں کے دودھ کے سوا کوئی اور دودھ پلانا معیوب سمجھا جاتا تھا ، کیونکہ ماں کے دودھ کے ساتھ غیرت، عزت اور تفاخر کے جذبات وابستہ کئے جاتے تھے اسی سے ماں کی مامتا اور ماں کی عظمت کے خیالات بھی جڑے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ سالوں سے بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کا رحجان زوال پزیر ہورہا ہے اور ڈبے کا دودھ پلانے کا رحجان پروان چڑھ رہا ہے اسے تیار اور فروخت کرنے والی کمپنیاں جدید دور کی اہم ضرورت اور ماؤں کے لئے ماڈرن ہونے کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اور ماؤں کے ذہنوں کو اس طرف مائل کرنے کے لئے مختلف قسم کی بے معنی باتیں پیدا کرکے یہ ثابت کرتی ہیں کہ بچے کے لئے ڈبے  کا دودھ نہ صرف  ماں کے دودھ کے برابر غذائیت رکھتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں تو اس کا استعمال ناگزیر ہے سب سے بڑھ کر تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان کمپنیوں نے پورے ملک کے دیہاتوں سے دودھ خریدنے کا ایسا بندوبست کیا ہے کہ دیہاتی لوگ جو پہلے دیسی گھی عام استعمال کرتے تھے اب دودھ فروخت کرنے کے لالچ میں اپنے بچوں کے لئے صرف چائے کے لئے دودھ رکھ کر سارا دودھ فروخت کردیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بچے کے لئے ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں اس دودھ پلانے کا صرف بچے کو ہی فائدہ نہیں ہوتا ، بلکہ جدید تحقیقات کے مطابق بچے کو دودھ پلانے والی مائیں چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہتی ہیں اس دودھ میں وہ تمام غذائی اجزاء جن کی بچے کی بہتر نشوونما کے لئے ضرورت ہوتی ہے موجود ہوتے ہیں جبکہ ڈبے کے دودھ میں صرف دس فیصد دودھ ہوتا ہے، اور نوے فیصد دوسرے مصنوعی مادے شامل کئے ہوتے ہیں جن سے بچے اکثر ڈائیریا میں مبتلا رہتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ماؤں کو ایسی ترغیب دی جائے کہ وہ بچوں کو ڈبے کے دودھ کی بجائے اپنا دودھ پلائیں تاکہ بچہ اور ماں دونوں ان امراض سے محفوظ رہ سکیں۔
تحریر: حکیم محمد عارف دنیاپوری
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

حلوہ بیضہ مرغ


حلوہ بیضہ مرغ
انڈے دیسی: 8عدد
گھی دیسی :آدھ کلو
بیسن خالص: ایک پاؤ
کشمش: آدھ پاؤ
چینی حسب ضرورت
ترکیب تیاری: سب سے پہلے تھوڑے سے گھی میں بیسن کو سوجی کی طرح بھون لیں اور الگ رکھ لیں پھر باقی گھی میں کشمش اور کچے انڈے توڑ کر پکائیں۔ جب پکنے کی خوشبو آجائے تو بھنا ہوا بیسن اور چینی ملا کر اتار لیں ٹھنڈا ہونے پر جم جائے گا۔ بس تیار ہے۔
مزاج: مقوی ہے۔ مزاج گرم ہے۔
مقدار خوراک: 50 گرام صبح ، 50 گرام شام روزانہ کھائیں۔ جب ختم ہوجائے تو اور تیار کرلیں۔ چھ ہفتے مکمل کورس کریں۔
فوائد:
یہ حلوہ جسم میں گوشت کی مقدار بڑھانے کے لئے اپنی مثال آپ ہے۔ پولیو کے مریضوں کو کھلانے سے ان کی ٹانگوں میں بھی طاقت آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ یہ حلوہ مقوی حافظہ اور کمزوری نظر کے لئے بھی مفید ہے ۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

طبی اصطلاحات حصہ اول


طبی اصطلاحات حصہ اول
محرک:۔ محرک ایسی غذا، دوا کو کہتے ہیں۔ جو کسی مفرد عضو کو سکون سے فعل میں لے آئیں۔
شدید:۔ محرک سے ذرا تیز اثر رکھنے والی ادویات کو شدید کہتے ہیں۔
ملین:۔   وہ دوا ہوتی ہے جس میں محرک و شدید اثرات کے ساتھ ساتھ فضلات کو خارج کرنے کی قوت بھی ہو۔
مسہل:۔ مسہل دوا میں محرک شدید، ملین اثرات کے علاوہ جلاب آور بھی ہوں۔ ہم مسہل دوا کی مقدار کو کم کرکے محرک ، شدید، اور ملین اثرات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
مقوی:۔ ایسی اشیاء کو کہتے ہیں جو کسی عضو کی طرف خون کو آہستہ آہستہ جذب کرنا شروع کردیں۔ ان میں اغذیہ، ادویہ اور زہر تک شامل ہیں۔ مثلاً اغذیہ میں گوشت۔ ادویہ میں فولاد۔ اور زہروں میں سنکھیا اور کچلہ، مقویات شامل ہیں۔  چونکہ ہر عضو کا علیحدہ علیحدہ مزاج ہوتا ہے اس لئے ان کی طبیعت رکھنے والی اشیاء ہی مقوی ہوسکتی ہیں۔
اکسیر:۔ اکسیر اس دوا کو کہتے ہیں جو نہ صرف فوراً خون میں جذب ہو کر اپنا اثر شروع کردے بلکہ ایک مدت تک اپنے شفائی اثر جسم میں قائم رکھے۔
ایسی ادویات کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی مرض مستقل یا دائمی صورت اختیار کرجائے۔ مثلاً شوگر، دائمی قبض، چھپاکی، سوزاک، خارش، اور چنبل وغیرہ ایسی علامات اس وقت ظاہر ہرتی ہیں جب کوئی خلط خون میں جمع ہوجائے اور پھر تکلیف کا سبب بن جائے۔
تریاق:۔ اس دوا کو کہتے ہیں جو کسی زہر کو باطل کردے یا پہلی حالت کو یک دم نئی حالت میں تبدیل کردے ۔ ایلوپیتھی اور ہومیو پیتھی میں اسے اینٹی ڈوٹ کہتے ہیں۔
مثلاً کھار (الکلی) کے مقابلہ میں ترشی (ایسڈ) ہے۔ اسی طرح افیون کے زہر کو کچلہ زائل کردیتا ہے۔ تریاق قسم کی ادیات کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کسی زہر سے یا کسی عضو میں ہونے والی مشینی تحریک سے موت واقع ہونے کا خطرہ ہو۔ مثلاً ہیضہ، نمونیا، سرسام اور خونی قے وغیرہ۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) میں قانون شفاء


ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) میں قانون شفاء
دوسرا طریقہ علاج ہومیو پیتھی ہے۔ یہ حضرات بھی اپنے آپ کو سائینٹی فک اور جدید کہنے کے ساتھ ساتھ بے ضرر کہتے ہیں۔ اس میں سرے سے مرض کا تصور ہی نہیں ہے ۔ بس علامات کو ختم کرنے کے لئے دوا دی جاتی ہے جس کا تعلق نہ تو خون کے کیمیائی اجزاء کے ساتھ ہے۔ اور نہ ہی اعضاء کے افعال کے ساتھ ہے ان کی ادویہ اس قدر قلیل مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں کہ کسی چیز کے اضافے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ کسی علامت کو ختم کرنے سے خون کے کیمیائی اجزاء میں ہرگز کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

طب قدیم میں قانون شفاء


طب قدیم میں قانون شفاء
اسی طرح طب یونانی کے حامل اطباء احضرات کا خیال ہے کہ طب قدیم ہی اصل اور قدرتی طریقہ علاج ہے جس میں یقینی اور بے ضرر شفاء ہے۔
اس کی بنیاد اخلاط اور کیفیات پر رکھی گئی ہے جب تک ان میں اعتدال قائم ہے اس کا نام صحت ہے اور ان کے اعتدال کے بگڑ جانے کا نام مرض ہے پھر ہر خلط کا مزاج مقرر ہے پھر تمام اخلاط کا جسم انسان میں اعتدال اضافی مقرر کیا گیا ہے جس پر انسانی صحت قائم ہے امراض کے علاج کی صورت میں صحت کے اسی مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بیماری سے ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ یہی صحت کا فطری قانون ہے۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

ایلو پیتھی میں قانون شفاء


ایلو پیتھی میں قانون شفاء
اس وقت جس قدر بھی طریق ہائے علاج ہیں ان میں سب سے زیادہ ایلو پیتھی کا دور دورہ ہے کیونکہ یہ تمام دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ماڈرن یا جدید اور سائینٹی فک اور سسٹو میٹک اور بے ضرر ہے اس میں شفاء حاصل کرنے کے لئے علامات کو ختم کرنے یا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سبب مرض جراثیم کو مانا گیا ہے۔ اور شفاء حاصل کرنے کے لئے ان جراثیم کو فنا کرنا ضروری سمجھتے ہوئے جراثیم کش ادویات دی جاتی ہیں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

قانون شفاء


اس دنیا میں جس قدر بھی طریق ہائے علاج پائے جاتے ہیں۔ سب کا دعوی یہی ہے کہ ان کا طریقہ علاج باقی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ بعض تو یہاں تک دعوی کرتے ہیں کہ ان کے طریقہ علاج میں یقینی اور بے خطاء علاج کی خوبی پائی جاتی ہے۔لیکن سال ہا سال کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے  کہ شفاء منجانب اللہ ہے اور قوت شفاء و مرکز شفاء اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے اور اللہ کی مرضی و منشاء کے بغیر شفاء حاصل نہیں ہوسکتی اس لئے ہر حکیم اور عقل مند معالج مریض کو یہی کہتے ہیں کہ ان شاء اللہ شفا ہو جائے گی۔ یعنی اگر اللہ کی مرضی و منشاء شامل حال رہی تو شفاء ہوگی ورنہ نہیں۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

اسباب الامراض


"سبب مرض وہ ہوتا ہے جس کے مریض پر وارد ہونے سے مرض وارد ہوتا ہے۔ اور جب اس سبب کو دور کر دیا جائے تو مرض بھی ختم ہوجاتا ہے۔"
کسی بھی مرض کے علاج کے لئے مرض کے سبب کی صحیح تشخیص لازمی ہے۔اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جو سبب مرض پیدا کرے اور سبب دور ہوجائے تو مرض ختم نہ ہو۔
مثلاً ایک شخص نے تربوز کھا کر دودھ پی لیا جس سے اسے ہیضہ ہوگیا۔
اب ہیضہ کا سبب تربوز اور دودھ سے ایک طرف جسم میں رطوبات کا بڑھنا ہے، اور قے اور دستوں کی کثرت سے حرارت کا زیادہ خارج ہوجانا ہے۔ تو ایسے مریض کے علاج کے لئے ایک طرف تو جسم میں رطوبات کو کم کرنے کے لئے خشک غذائیں و دوائیں دینا پڑیں گی۔ اور دوسری طرف قے اور دستوں کی کثرت سے جسم سے جو حرارت ضائع ہوئی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے گرم غذائیں و دوائیں دینا پڑیں گی۔ لہذا عضلاتی غدی سے غدی عضلاتی یعنی غذائی چارٹ میں سے 3نمبر اور 4نمبر غذائیں دینے سے مریض چند گھنٹوں میں ہی صحت یاب ہوجاتا ہے۔
یہ درست علاج اس وقت ہی ممکن ہوگا جب معالج مرض کے حقیقی اسباب تک پہنچ جائے گا۔ اگر خدانخواستہ غلظ تشخیص سے غلط اسباب معلوم ہوجائے تو علاج بھی غلط تجویز ہوجائے گا اور مرض مزید بڑھ جائے گا، بلکہ بعض صورتوں میں تو مریض جان سے ہی ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔
مثلاً ہیضہ کے مذکورہ مریض میں ہیضہ کا سبب تربوز اور دودھ کی وجہ سے جسم میں رطوبات کا بڑھنا ہے اور جسم میں حرارت کی کمی بھی ہے۔ اب اگر مریض کو ٹھنڈی غذائیں و مشروبات دیے جائیں گے تو کیا ہوگا۔ نتیجتاً مریض کے جسم میں حرارت مزید کم ہوجائے گی، اور جسم میں رطوبات مزید بڑھ  جائیں گی۔  اور تکلیف زیادہ ہوجائے گی ۔۔۔۔اور۔
لہذا  کسی بھی مرض کا علاج کرنے سے پہلے صحیح سبب کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ

بے قاعدگی حیض میں تشخیصی غلطیاں


ہر عورت کے ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی ہوتی ہے کہ اسے خون حیض کھل کر نہیں آتا بلکہ تھوڑا تھوڑا آتا ہے۔ اگر کھل کر آجائے تو میں ٹھیک ہوجاؤں۔ اس کی اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیے معالج حضرات اصل سبب تلاش کرنے کی بجائے حیض زیادہ لانے کی دوا تجویز کریتے ہیں ۔ جس سے بعض اوقات تکلیف زیادہ ہوجاتی ہے۔
یاد رکھیے: کسی بھی مرض کا علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض کے سبب کا علاج کرنا چاہیے۔
مرض کا سبب دور ہوگا تو مرض کا علاج خود ہی ہوجائے گا۔ مثلاً اگر پاؤں میں کانٹا لگا ہے  اور کانٹا لگنے سے زخم ہوگیا ہے  تو وہاں مرہم پٹی نہیں کردینی چاہیے۔ پہلے زخم کی وجہ یعنی کانٹا ہٹانا چاہیے۔ بعد میں زخم کا علاج کرنا چاہیے۔
مکمل تحریر۔۔۔۔۔ِ